7 فروری 2012 - 20:30

انہوں نے کہا کہ پولیس نے جانبدارانہ رویہ اپنا رکھا ہے، مخالفین کے گھروں میں خوفناک لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے لیکن انہیں کوئی نہیں پوچھتا جبکہ میرے گھر پر اگر کوئی مہمان آ جائے تو شور مچ جاتا ہے کہ یہاں پاراچناری موجود ہیں اور اسی بہانے تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے.

ابنا: پشاور جیل میں قید امام بارگاہ حسینی پشاورکے متولی محمد حسین حسینی کی اہلیہ نے کہا ہے کہ یہ ملت تشیع کی بیداری کا وقت ہے ، امام بارگاہوں کی بے حرمتی کا راستہ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم ایک جان ہو کر میدان میں اترے ، میرا خاوند اور دو بیٹے مولاامام حسین کے نام پر جیل میں ہیں ، اگرمیرے دوسرے بچوں کوبھی گرفتار کیا گیا تب بھی میں امام بارگاہ کی حفاظت اور عزاداری کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹوں گی ۔

اسیر متولی محمد حسین حسینی کا عزم ، امام بارگاہ حسینی پشاور کے سانحہ کے بعد میں تن تنہا اس کیس کی پیروی کر رہی ہوں میں کورٹس میں اکیلی جاتی ہوں جبکہ فریق مخالف کے سینکڑوں افراد مد مقابل ہوتے ہیں اور میرا مذاق اڑایاجاتا ہے، لوگ سوال کرتے ہیں کہ شیعہ قوم کہاں ہے؟

انھوں نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اکیس مارچ کو اس امام بارگاہ میں نوروز کا سالانہ جشن سابقہ روایات کے تحت منایا جائے اس لیے ضروری ہے کہ پوری قوم میرا ساتھ دے ، میں نے امام بارگاہ کیس کی ری انوسٹی گیش کے لیے دوماہ قبل درخواست دی تھی لیکن ابھی تک کچھ نہیں بنا، دوسری جانب مجھے فریق مخالف کی جانب سے دھمکیاں بھی مل رہی ہیں لیکن میں ان سے مرعوب نہیں ہوں، مجھے اپنے شوہر محمد حسین حسینی، بیٹوں عسکر عباس حسینی اور محسن عباس حسینی کی جرات مندی اور جذبہ ایمان پر فخر ہے جنہوں نے کورٹ میں ہتھکڑیوں کو چوم لیا تھا، میں بھی امام کے نام پر اپنا گھر بار اور سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے جانبدارانہ رویہ اپنا رکھا ہے، مخالفین کے گھروں میں خوفناک لوگوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے لیکن انہیں کوئی نہیں پوچھتا جبکہ میرے گھر پر اگر کوئی مہمان آ جائے تو شور مچ جاتا ہے کہ یہاں پاراچناری موجود ہیں اور اسی بہانے تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے.........

/169-110